بینر
 
بینر

تازہ ترین خبروں کے لیے ای میل ایڈریس لکھیں۔

آخر عورتوں پر تشدد کب ختم ہو گا؟(ممتاز حیدر) چھاپیے ای میل
جمعرات, 29 جولائی 2010 21:17
 کہتے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ عورت وفا پیشہ اور ایثار و محبت کا لازوال شاہکار ہے ماں، بیوی، بہن، بیٹی چاہے وہ ان میں سے کسی بھی روپ میں ہو اس کا ہر رشتہ تقدس کا داعی ہے وہ عہد وفا کی سچی اور کردار کی بےداغ ہوتی ہے لیکن آج کے معاشرے میں اس کو وہ اہمیت حاصل نہیں ہے جس کی وہ حقدار ہے مرد عورت کو کمزور سمجھتا ہے اور پھر ہر دور میں ناپاک خواہشات کے حامل لوگ عورت سے زیادتی کرتے آئے ہیں جبکہ اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اسلام ایک ایسا واحد مذہب ہے جس نے عورت کو اس کا صحیح مقام و مرتبہ دیا، اسے عزت و توقیر عطا کی اسلام نے عورت کو ظلم کی کال کوٹھری سے نکال کر اسے اس مقام پر بٹھا دیا جس کی وہ حقدار تھی اسلام نے عورت کا جو معتبر اور قابل قدر کردار متعین کیا تھا اسے ملحوظ خاطر نہیں رکھاگیاہمارے ملک پاکستان کو بنے تریسٹھ سال ہو چکے مگر ہم ابھی تک جاگیردارانہ قبائلی کلچراور فرسودہ رسم و رواج سے پیچھا نہیں چھڑا سکے عورتوں پر تشدد بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس سے انسانی زندگی کی قدر اور وقار کی نفی بھی ہوتی ہے یہ پاکستان کے آئین کی شق 34 کے تحت عورتوں کی قومی زندگی مےں پوری طرح شمولیت کے حق پر بھی اثرانداز ہوتا ہے ہمارے ملک مےں عورتوں پر کئی قسم کے تشدد عرصے سے ہوتے آرہے ہےں۔ جیسے کہ زنا بالجبر‘ رسم و رواج کا سہارا لے کر عورتوں کو کاروکاری اور سیاہ کاری کے نام پر قتل‘ عصمت فروشی اور عورتوں کی تجارت، ملازمت کی جگہ پر عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنا، گھر سے باہر خوف و ہراس سرعام بے حرمتی اور دشمنوں سے انتقام لینے کےلئے ان کی عورتوں پر تشدد کرنا جس کو اکثر معیوب یا غلط بھی نہیں سمجھا جاتا چونکہ اس کو تشدد نہیں سمجھا جاتا اس لئے اس کا ذکر بھی نہیں کیا جاتا ناقص قانون اور عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اس مسئلے کو اور بھی بڑھا دیتے ہیں پچھلی حکومت اور اب موجودہ حکومت میں کچھ قوانین بنے ہیں عورتوں کے خلاف تشدد کے خلاف لیکن صرف قانون کے بن جانے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک ہمارے معاشرے کی سوچ میں تبدیلی نہ آئے
پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری فلاحی تنظیم عورت فا?نڈیشن نے یکم جنوری سے30 جون 2010 کے دوران پنجاب میں عورتوں پر ہونے والے ظلم و تشدد کی پہلی ششماہی کی رپورٹ پیش کی ہے جس میں عورتوں پر ہونے والے مختلف جرائم میں 20سے زائداقسام کا تجزیہ کیا گیا ہے رپورٹ میں تشدد کے واقعات، وجوہات، ایف آئی آر کی نوعیت، مظلوم عورت کے ساتھ جرم کرنے والے کے رشتہ کے لحاظ سے اعداد و شماراور معلومات مرتب کی گئی ہیںرپورٹ کے مطابق پنجاب میں2010کے پہلے چھ ماہ میںعورتوں پر تشدد کے2690 واقعات رونما ہوئے جن میں اغوائ کے 913،جنسی زیادتی انفرادی/اجتماعی کے377،قتل کے381،خودکشی کے166،مار پیٹ (گھر سے باہر) کے89،غیرت کے نام پر قتل کے102،گھریلو تشدد کے127،زخمی(گھر سے باہر) کے115،جنسی طور پر ہراساں /بے عزتی کے 53،اقدامجنسی زیادتی کے55،ہراساں کرنا کے38،اقدام خودکشی کے79،خرید و فروخت کے23،اقدام قتل کے36،تیزاب کے10،جان سے مارنے کی دھمکی کے33،حبس بے جائ کے17،جنسی زیادتی (محرم افراد کی) کے17،جلانے کے19،ونی کے6،کالا کالی کے2،چھوٹی عمر کی شادی کے4،وٹہ سٹہ کی شادی کا ایک اورمتفرقات کے27 واقعات شامل ہیں،عورتوں پر تشد د کے 2690واقعات میںکل3066افراد شکارہوئے جن میں 2908عورتوں اور بچیوں کے ساتھ ساتھ158مرد اور بچے بھی شامل تھے۔اگر ان واقعات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ روزانہ تقریباََ 16عورتیں اور بچیاں پنجاب میں کسی نہ کسی تشدد کا شکارہوئیں۔روزانہ3عورتوں کا قتل اور 2کو اجتماعی یا انفرادی طور پر جنسی تشدد کا شکاربنایا گیااسی طرح حالات سے تنگ آکر روزانہ 1 عورت نے خودکشی۔
ازدواجی حیثیت کے مطابق 1535عورتیںغیر شادی شدہ، 1217شادی شدہ ، 39طلاق یافتہ، 48بیوہ اور 227عورتوں کی ازدواجی حیثیت کے بارے میں معلوم نہ ہوسکا۔رپورٹ کے مطابق عورتوں پر تشدد کے سب سے زیادہ 1546واقعات دیہاتوںاور قصبہ جات میں ہوئے اور 1141واقعات شہری علاقوں میںجبکہ 3واقعات کے بارے میں معلومات حاصل نہ ہوسکیں۔ اسی طرح تشدد کے 87%فیصد واقعات تھانو ں میں ایف آئی آرکے ذریعے رجسٹرڈہوئے اور 9%فیصد واقعات کے اندراج کے بارے میں معلومات حاصل نہ ہوسکیں جبکہ 4% فیصد واقعات کی ایف آئی آرمتعلقہ تھانوں میں درج نہ ہوسکیں،پنجاب میں گزشتہ چھ ماہ مین عورتون پر ہونے والے تشدد کے2353 واقعات کی ایف آئی آر درج ہوئی ہیں جبکہ 96 واقعات کی ایف آئی آر درج نہیں ہوئیں اور241 واقعات کی ایف آئی آر کے بارے مین معلومات نہ مل سکیں،پہلی ششماہی میں12 ایسے اضلاع سامنے آئے ہیں جہاں خواتین پر تشدد کے واقعات کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔جیسا کہ لاہور458 واقعات کے ساتھ پہلے نمبر پر، فیصل آباد393 دوسرے نمبر پر،سرگودھا161 واقعات کے ساتھ تیسرے نمبر پر،شیخوپورہ157واقعات کے ساتھ چوتھے نمبر پر،راولپنڈی139واقعات کے ساتھ پانچویں،اوکاڑہ134واقعات کے ساتھ چھٹے،قصور116 واقعات کے ساتھ ساتویں،سیالکوٹ114واقعات کے ساتھ نویں،ساہیوال88واقعات کے ساتھ دسویں، گوجرانوالہ 87واقعات کے ساتھ گیارہویں، جھنگ 76 واقعات کے ساتھ بارہویں اور ملتان 71 واقعات کے ساتھ تیرہویں نمبر پر رہا۔ 
 رپورٹ میں پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق سب سے زیادہ اغوا ءکے913 واقعات ہوئے جن میں967 عورتوں و لڑکیوںاور ان کے ساتھ22بچے بھی اغوائکیے گئے اغواءکے ان واقعات میںزیادہ تر جاننے والے لوگوں نے عورتوں کو اغواءکیااس کے علاوہ رشتہ دار، محلہ دار اور مقامی لوگ شامل تھے اور محرکات میںمرضی کی شادی ، بدلہ لینے کےلئے، مقدمہ بازی کی رنجش کی بناءپر، پراپرٹی اور رقم کی لین دین پر، اور بھلا پھسلا / ورغلا کر وغیرہ جیسے محرکات شامل تھے۔زیادہ تر عورتوں کو اسلحہ کے زور پر اغوائکیا گیا۔قتل کے381واقعات میں411 عورتوںکے ساتھ 57مردوں کوبھی قتل کیا گےا۔قتل کے ان واقعات میں ملزمان خاوند، بھائی، باپ وغیرہ شامل تھے ا ور محرکات میں سب سے زیادہ گھرےلو جھگڑوں کے واقعات دیکھنے میں آئے۔ جبکہ 37 خواتین کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی یہ واقعات قتل کے واقعات سے الگ ہیں ،اسی طرح غیرت کے نام پر قتل کے102واقعات رونماہوئے جس میں113 عورتوںاور11 مردوںکو قتل کیا گیا۔ان واقعات میں لڑکیوں کو صرف ناجائز تعلقات کے شبہ میں قتل کی گیاجس میں 58غیر شادی شدہ ، 59شادی شدہ، 5طلاق یافتہ اور 2بیوہ عورتیں شامل ہیں۔
394واقعات میں404 عورتوں اور لڑکیوں کو زنا با لجبر اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیااس میںسے 17واقعات میں محرم افرادنے اپنی بہن یا بیٹی یا بہو کے ساتھ زیادتی کی زنا با لجبر اور اجتماعی زیادتی کے واقعات میںسب سے زیادہ پڑوسی اورمقامی رہائشی لوگ شامل تھے اور محرکات میں جنسی خواہش کی تکمیل تھی۔279عورتیں غیر شادی شدہ ، 84شادی شدہ ، 2طلاق یافتہ ، 2بیوہ اور 37 عورتوںازدواجی حیثیت کے بارے میںمعلوم نہ ہوسکااس کے علاوہ29واقعات میں 31 عورتوں کو جلاکر اور تیزاب پھینک کر زخمی کیاگیا۔ جبکہ166واقعات میں171 عورتوں نے تشدد سے تنگ آکر خود کشی اور79واقعات میں 80 نے اقدام خود کشی کی کوشش کی۔ رسم وروایات کے 8واقعات میں7خواتین کو ونی اور 2کو کالا کالی کی رسم کے بھینٹ چڑھایا گیا اور23واقعات میں 27لڑکیوں کو فروخت کیاگیااور53 واقعات میں 61خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیاگیا۔
 محسوس یوں ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے موثر کردار ادا نہ کرنے کی وجہ سے بھی تشدد کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ساتھ ہی ساتھ ہمارے سماجی ، ثقافتی رویوں اور ریاستی اداروں کی بدسلوکی اور امتیازی قوانین عورتوں کے خلاف تشدد کی روک تھام میں رکاوٹ کا باعث ہیں۔عورتوں کو فیصلہ سازی کا حق نہیں دیا جاتا اور اگر وہ ایسا کریں تو انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔اور یہ ایک بڑی وجہ ہے کہ عزت کے نام پر قتل، ونی، جبری شادیوں اور پنچائت کے فیصلوں کے رواج عام ہیں جن کے خاتمے کیلئے موثر اور مضبوط قانون سازی اور ان پر عمل درآمد بے حد ضروری ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمہ کیلئے سول سوسائٹی ، منتخب نمائندوں، سرکاری محکموں ، وکلائتنظیموں اور میڈیا کو مل جل کر اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہیے ایک تشدد سے پاک معاشرہ کےلئے ہمیں معاشرتی بیداری کی مہم چلانی چاہئے سوشل جسٹس کے بغیر عورت کے خلاف تشدد بند نہیں ہوگا۔ قانون ساز اداروں اور پولیس ٹریننگ کے نصاب مےں ہیومن رائٹس اور ویمن رائیٹس کو شامل کیا جائے اس کے علاوہ سوشل ویلفیئر کے اداروں کو عورتوں کے تحفظ کے حوالے سے آگہی دینا ہوگی ہر پولیس سٹیشن خاص طور پر دیہی علاقوں مےں ویمن سنٹر ہو جو عورتوں پر تشدد کو مانیٹر کریں اور سوموٹو ان کو تحفظ دیں صرف انٹرنیشنل قوانین کے دباﺅ میں آکر دکھاوے کے قوانین بنا کر خوش نہ ہوں بلکہ سنجیدگی سے ان قوانین پر عملدرآمد کروائیںپاکستان ایک اسلامی ملک ہے اسلام عورت کا احترام کرنے والا مذہب ہے آج سے چودہ سو سال پہلے مسلمانوں کو میرے پیارے رسولﷺ نے یہ سبق دیا کہ عورت قابل عزت ہستی ہے بانی پاکستان نے بھی عورتوں کو پاکستان مےں برابری کا حق دیا ان کے حقوق کی حفاظت کا اپنی ہر تقریر مےں ذکر کیا ہمیں تو اپنے مذہب اور اپنے نظریہ پاکستان کے مطابق عورت پر تشدد کو فوری طور پر ختم کرنا چاہئے۔ 



 
 
بینر
بینر

ہر پیر کو شائع ہونے والا

بینر
بینر
بینر
بینر
بینر

پول

این اے اکسٹھ:ضمنی انتخابات کون جیتے گا؟
 

مقبول ترین