|
ائیر بلیو طیارہ حادثہ کے نتیجہ میں ضلع چکوال سے تعلق رکھنے والے چار افراد جاں بحق،لاشیں گھروں میں پہنچنے پر کہرام مچ گیا،بیٹے کے انتقال کی خبر سن کر ماں بھی چل بسی |
|
|
|
جمعرات, 29 جولائی 2010 13:13 |
|
چکوال(تلہ گنگ اپ ڈیٹس ڈاٹ کام) ائیر بلیو طیارہ حادثہ کے نتیجہ میں ضلع چکوال سے تعلق رکھنے والے چار افراد جاں بحق ہوئے۔جاں بحق ہونےوالوں میں سابق ناظم یونین کونسل اور سگے ماں بیٹا بھی شامل ہیں۔ماں بیٹا کی میتیں جمعرات کی شام آبائی گاﺅں چک ملوک پہنچیں تو علاقہ میں کہرام مچ گیا۔بدقسمت ماں بیٹا کراچی سے چکوال آ رہے تھے قبل ازیں جاں بحق ہونےوالے محمد زاہد رﺅف ولد ڈاکٹر محمد رﺅف اور اس کی ماں انوار بیگم نے ٹرین کے ذریعے راولپنڈی پہنچنا تھا اور انہوں نے ٹرین کے ٹکٹ بھی حاصل کر لیے تھے تاہم اچانک ڈاکٹرمحمد رﺅف نے اپنے بیٹے محمد زائد کو بذریعہ ہوائی جہاز جلد گھر پہنچنے کا کہاجس پر دونوں ماںبیٹا نے کافی تگ و دو کر کے چانس پر ٹکٹیں حاصل کیں۔مگر زندگی نے دونوںماں بیٹاکو گھر پہنچنے کی مہلت نہ دی اور وہ فضاءمیں ہی لقمہ اجل بن گئے۔ان کی میتیں جمعرات کے روز ان کے لواحقین کے حوالے کی گئیں۔حادثہ میں جاں بحق ہونےوالا نوجوان زائد رﺅف ایم بی بی ایس فائنل ائیر کا سٹوڈنٹ تھا اور کراچی میں بسلسلہ تعلیم اپنے گھر والوں کے ہمراہ رہائش پذیر تھا۔حادثہ میں جاں بحق ہونےوالے سابق ناظم یونین کونسل کوٹ قاضی سکندر حیات اعوان کی بھی شناخت ہو گئی۔سکندر حیات اعوان بھی کراچی سے بذریعہ ہوائی جہاز راولپنڈی آ رہے تھے اور انہوں نے بعد ازاں اپنے علاقے پہنچنا تھا۔حادثہ میں چوتھے جاں بحق ہونےوالے کا تعلق ضلع چکوال کے سرحدی علاقے پیل پدھراڑ سے ہے،متوفی غلام حسنین بسلسلہ روزگاردوبئی میں مقیم تھا اور گزشتہ روز اسے والدہ کے سخت بیمار ہونے کی وجہ سے چھٹی آنے کا کہا گیا۔ایمرجنسی میں غلام حسنین کو دوبئی سے اسلام آباد کی بجائے دوبئی سے کراچی کی فلائیٹ پکڑنا پڑی اور وہ کراچی پہنچنے کے بعد اسلام آباد آنے کے لیے بدقسمت طیارے میں سوار ہوا اور حادثے میں جاں بحق ہو گیا۔ ملک غلام حسنین کے انتقال کی خبر جونہی اس کی بوڑھی بیماروالدہ کوملی وہ بھی یہ صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملی۔
|