دین اسلام امن اور سلامتی والا دین ہے جو اپنے پیروکاروں کو سلامتی کا حکم دیتاہے ۔ پوری دنیا بالخصوص عالم کفر میں پروپیگنڈہ ہے کہ مسلم شدت پسند ہیں دہشت گرد ہیں ۔ حالانکہ دین اسلام کے ماننے والے امن پسند ہیں اور امن کے خواہاں ہیں ۔ 9/11کے بعد ہرمسلم کو عجیب نگاہ سے دیکھا جاتاہے ۔ دہشت گرد ی کے ہر واقعہ میں کوئی نہ کوئی کڑی مسلم سے ضرور ملائی جاتی ہے۔ آج جو دین اسلام پر عمل کرے وہ دہشت گر د ، جو پنجگانہ نماز ادا کرے وہ دہشت گرد ، جو اپنے سر پرٹوپی رکھے وہ دہشت گرد ، جو مخلوط محفلوں میں جانے سے گریز کرے وہ دہشت گرد ، جو کسی مظلوم کی حمایت میں نعرہ حق بلند کرے وہ دہشت گرد ، جو حکمرانوں کی مغرب سے لائی ہوئی پالیسیا ں مسترد کرے وہ دہشت گرد ، جو ہندووں کا تہوار بسنت منانے پر احتجاج کرے وہ دہشت گرد ، حتی کہ کفار نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دہشت گرد کہا اور ہمارے حکمران ان کے اصولوں کو اپنا تے ہوئے ہر کلمہ گو کو دہشت گرد سمجھتے ہیں ۔
دہشت گرد تو وہ ہے جو ہزاروں میل کافاصلہ طے کرکے افغانستان کے پہاڑوں پر بمباری کررہا ہے بے گناہ افغانیوں کا قتل عام کررہے ہیں،ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان کے مسلمانوں کو خون میں تڑپا رہے ہیں، دہشت گرد تو وہ ہے جو عراق کوفہ وبغداد کے اندر امت مسلمہ کے جگر گو شوںکو چھلنی کر رہا ہے دہشت گرد تو وہ ہے جو بیت المقدس کو گرا رہا ہے دہشت گرد تو وہ ہے جو بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنارہا ہے دہشت گرد تو وہ ہے جو سینکڑوں مسلمانوں کو کیوبا کے پنجرہ نما جیل خانوں میں نا حق پابند سلاسل کرچکا ہے دہشت گرد تو وہ ہے جو امت مسلمہ کی بیٹیوں کی عصمتوں کو تارتار کررہا ہے دہشت گرد تو وہ ہے جو حدود اللہ میں ترامیم کررہا ہے دہشت گرد تو وہ ہے جو امت مسلمہ کے علاقوں پر قابض ہے دہشت گرد تو وہ ہے جو انسانیت کو کھنڈرات اور قبرستان میں تبدیل کررہا ہے،دہشت گرد تو وہ ہے جو میرے پیارے نبی مکرم خاتم النبییں محمد رسول اللہﷺ کے خاکے بنا رہا ہے، دہشت گرد تو وہ ہے جو معصوم بچوں کا قتل عام کررہا ہے دہشت گرد تو وہ ہے جو لاکھوں افراد کو بمباری کے ذریعے ہمیشہ کے لئے معذور کررہا ہے دہشت گرد تو وہ ہے جو مدارس پر بمباری کرکے علوم دینیہ کے طلباءکو شہید کررہاہے،دہشت گرد تو وہ ہے جو مساجد کے میناروں پر،ادائیگی نماز پر،برقع حجاب پر پابندی لگا رہا ہے لیکن آج انہیں کوئی دہشت گرد نہیں کہتا بلکہ دین اسلام کے پیروکاروں پر انگلی اٹھا ئی جاتی ہے۔
دین اسلام کفار دشمنوں کے بھی جان ومال کی حفاظت کا درس دیتا ہے نبی مکرم ﷺ نے اپنے دشمنوں کو معاف کردینے کی اعلیٰ مثال قائم کی جب مکہ فتح ہوا اور اس وقت کے سب دہشت گرد سرجھکائے اپنی گردنوں پر تلوار چلنے کے منتظر تھے اگر آپ ﷺچاہتے تو اس وقت ان لوگوں سے جنہوں نے آپ ﷺپر کوڑا کرکٹ پھینکا تھا، جن لوگوں نے آپﷺکو طائف کے میدان میں پتھر مار مار کر لہو لہان کردیاتھا جنہوں نے آپ کے چچا سےد الشہداءامیر حمزہ ؓکی لاش کا مثلہ کیا تھا ۔جنہوں نے بلال حبشی ؓکو گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھے تھے ،جنہوںنے حضر ت سمیہؓکے دو ٹکڑے کیے تھے جنہوں نے حضرت خباب ؓ کو تپتے انگاروں پر لٹایا تھا جنہوںنے سجدے کی حالت میں آپ ﷺ پر اونٹ کی اوجھڑی رکھی تھی ان سب دہشت گردوں سے انتقام لے سکتے تھے ۔ اس وقت بڑے بڑے روسا،سردار سکتے کے عالم میں تھے معلوم نہیں آج ہمارے ساتھ ساتھ کیا سلوک ہوگا....؟ ہم نے محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں پر جو مظالم کیے آج ہمارے ساتھ بھی وہی برتاو ہو گا مگر نبی مکرم ﷺ نے عام معافی کا اعلان کرکے اس بات کا ثبوت دیا کہ دین اسلام کے ماننے والے دہشت گرد نہیں اگر وہ دہشت گرد ہوتے توآج تمام کفر یہ طاقتوں کی انتہا ہو جاتی ۔ آج ہمارے دعوے بڑے بلند وبالا ہیں ہماری سوچیں وسیع ہیں ہماری نگاہیں دور تک پہنچتی ہیں کہ ہم دنیامیں امن کے خواہاں ہیں دہشت گردی کو ختم کرنا چاہتے ہیں انتہا پسندی کو جڑ سے اکھیڑ نا چاہتے ہیں مگر بنیاد پر ست دہشت گردی کی تربیت دیتے ہیں کیا قرآن وحدیث کی تعلیم بھی دہشت گردی ہے ؟ کیا قرآن پر عمل کرتے ہوئے مظلوم کی مدد کرنا بھی دہشت گردی ہے ؟ کیا غریبوں ،بیواں ،یتیموں کو دووقت کی روٹی فراہم کرنا بھی دہشت گردی ہے ؟ کیا قدرتی آفات سے متاثرہ بے یارو مددگار انسانیت کی مدد کرنا بھی دہشت گردی ہے ؟ ایمرجنسی حادثات کےلئے فری ایمبولینس سروس قائم کرنا بھی دہشت گردی ہےِ ؟ کیا معزوروں کو بیساکھیا ں اور وہیل چیئرز مہیا کرنا بھی دہشت گردی ہے ؟ تو امن کیا ہے.... ؟ لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والا جو خود دہشت گردی کا ارتکاب کررہا ہے ۔ بھلا وہ کیسے امن کا خواہاں ہو سکتاہے ۔عالمی دنیا کو امن کی ترغیب دینے والوں کو کشمیر کے اندر لٹتی عصمتیں نظر نہیں آتیں ۔ افغانستان کے اندر تڑپتے لاشے نظر نہیں آئے ۔ عراق کے اندر بہتی خون کی ندیاں نظر نہیں آتےں ۔فلسطین کے اندر مسلمانوں کا قتل عام نظر نہیں آتا ۔؟
دہشت گردکون ہے انتخاب کےجئے.... ؟ انڈیا میں ایک ممبئی حملہ ہوا انسانی حقوق کی ساری تنظیمیں،انڈیا ،امریکہ،اقوام متحدہ سارے چیخنا چلانا شروع ہو گئے اور بغیر کسی ثبوتوں کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی ایک بڑی رفاہی و فلاہی تنظیم جماعة الدعوة پر پابندی لگا دی ،جماعة الدعوہ کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید اس بات کا برملا اعلان کرتے رہے کہ انکا یا انکی جماعت کا ممبئی حملوں سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں مگر اقوام کفر تو اسلام کو اور اسلام کا نام لینے والوں کو مٹانے پر تلا ہوا ہے آج جماعة الدعوة پر پابندی لگانے والی امریکہ کی لونڈی اقوام متحدہ کو کشمیر میں انڈیا کی باوردی ریاستی دہشت گردی نظر کیوں نہیں آتی؟ کیا انڈیا کشمیر میں مسلمانوں کے لاشے گرا کر امن کی آشا کو بلند کر رہا ہے؟کیا کشمیریوں کو آزادی مانگنے کا حق حاصل نہیں؟اقوام متحدہ،انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں،کتے کے مرنے پر واویلا کرنے والی مغرب زدہ این جی اوز آج کیوں خاموش ہیں؟کشمیریوں کو انکا حق کیوں نہیں دیا جا رہا؟غاصب بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کیوں نہیں کر رہا ؟دہشت گرد کون ہے؟ذرا سوچیے اور خود ہی فیصلہ کیجئے امریکہ اور اسکے حواری مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں ادارہ خدمت خلق جماعة الدعوة پاکستان مسلمانوں کی مدد کرتے ہیں وہ بچوں کو یتےم کرتے ہیں یہ ان یتیم بچوں کا سہارا بنتے ہیں۔وہ بمباری کرکے لاشوں کے ڈھیر لگاتے ہیں ےہ کفن ودفن کا بندوبست کرتے ہیں وہ اپنی ہوس پوری کرنے کےلئے امت مسلمہ کی بیٹیوں کی عصمت کو داغدار کرتے ہیں جبکہ یہ اپنی بہنوں کو چادریں مہیا کرتے ہیں ۔ وہ امت کے نوجوانوں کو معذوری تحفہ میں دیتے ہیں مگر یہ وہیل چیئرز فراہم کرتے ہیں وہ مساجد ومدارس کو گرارہے ہیں اور یہ اللہ کے گھروں کی تعمیر کررہے ہیں ۔ وہ بے حیائی فحاشی وعریانی کے خواہاں ہیں یہ اسلامی نظام کے طلب گار ہیں ۔ یہ فحاشی عریانی کو رد کرتے ہیں ۔ وہ عورتوں کو میرا تھن ، بسنت کے ذریعے ان سے چادریں چھنیناچاہتے ہیں ۔ وہ نوجوان نسل کو سینما تک لے جانے کے خواہاں ہیں یہ مسجد کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ،جماعةالدعوة کے زیرانتظام چاروں صوبوںو آزادکشمیر میںلڑکوں اور لڑکیوں کے لئے 140 سے زائد سکولز،بیسیوں دینی مدارس و جامعات، جامعہ الدعوة الاسلامیہ یونیورسٹی، 4 سائنس کالجز، مختلف شہروں و علاقوں میں100 سے زائد فری ڈسپنسریزاور 4 ہسپتال لوگوں کو طبی سہولیات کی فراہمی میں مصروف عمل ہیں 56شہروں میں ایمبولینس سروس کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں دوردراز کے پسماندہ علاقوں میں فری میڈیکل کیمپنگ ، کشمیری مہاجرین کی کفالت، جیل خانہ جات، بیوگان، یتامیٰ، مستحق طلباءکے وظائف، ہیپا ٹائٹس فری پروگرام ، بلڈبنک و لیبارٹریز کے قیام، سندھ،بلوچستان، آزاد کشمیر و شمالی علاقہ جات میں کنوﺅں، ہینڈپمپ اورالیکٹرک واٹر پمپس کی تنصیب پر سالانہ کروڑوں روپے کے اخراجات کئے جا رہے ہیں علاوہ ازیں ملک و بیرون ملک جب اور جہاں کہیں بھی زلزلہ، طوفان یا کوئی اور قدرتی آفت کا موقع آیا چاہے وہ سندھ و بلوچستان میںبارشوں سے آنے والے طوفان، آزاد کشمیر و سرحد میں آنے والا تباہ کن زلزلہ ، انڈونیشیا، سری لنکا اور مالدیپ میں آنے والا سونامی طوفان ہویا ایران کے شہر بام میں آنے والا خوفناک زلزلہ جماعةالدعوة نے مشکل کی ہر گھڑی میں متاثرہ مقامات پر پہنچ کر دکھی انسانیت کی خدمت کی کوشش کی ہے یہی ادارہ خدمت خلق جماعة الدعوة پاکستان کی دہشت گردانہ کاروائیاں ہیں جن کی بنا پر ان رفاہی اداروں پر پابندی لگائی گئی اور دہشت گرد کہا گیا حالانکہ انصاف کے آئینے سے دیکھا جائے تو جماعة الدعوة کو دہشت گرد کہنے والے خود سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔
اگر واقعی امن کے نعرے لگانے والے اپنے دعووں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں تو انہیں نبی مکرم ﷺ کی سیرت کو اپنا ہوگا کہ اپنے تو اپنے رہے بیگانوں کو بھی معاف کرنا ہو گا چہ جائیکہ بے گناہوں کا خون بہایا جائے ماو¿ں سے ان کے لخت جگر چھین کر ٹکڑے ٹکڑے کیے جائیں معصوم بچوں کو یتےم کیا جائے ۔