بدبختی کی چار علامتیں
٭ حدیث شریف میں ہے کہ بدبختی کی چار علامتیں ہیں۔
٭آنکھوں سے آنسو کا جاری نہ ہونا
٭دل کی سختی
٭طول امل یعنی لمبی امیدیں باندھنا
٭دنیا کی حرص
انتخاب:۔ ام حبیبہ ، محمد علی محلہ غرب تلہ گنگ
قطعہ
دیکھ کر سماج ہمیں کچھ کہہ نہیں سکتا
اس دنیا میں سوائے جھوٹ کے کچھ رہ نہیں سکتا
سوچتا ہوں نکلے ہر گھڑ ی بات سچی منہ سے
کہنا بھی چاہوں پھر بھی محسن کہہ نہیں سکتا
کلام:۔ محسن علی عابد مدینہ ٹاﺅ ن تلہ گنگ
غزل۔
نہ مہربان نہ اجنبی نہ دوستی نہ دشمنی
نہ جانے پھر بھی کیوں ہمیں اسی کا انتظار ہے
یہ اور بات حال دل اسے سنا نہیں سکے
خیال اسکا مگر دل سے بھلا نہیں سکے
جو بے خبر ہے پیار سے ہمیں اسی سے پیار ہے
نہ مہربان نہ اجنبی نہ دوستی نہ دشمنی
جو سنگدل ہے اس قدر کہ منہ سے بولتا نہیں
کسی پہ بھی جو راز اپنے دل کا کھولتا نہیں
کریں تو کیا کریں ہمیں اسی کا اعتبار ہے
نہ مہرباں نہ اجنبی نہ دوستی نہ دشمنی
انتخاب:۔ ایس ایچ آر ، تلہ گنگ
قطعہ
اداسی جس کے دل میں ہو اسکی نیند اڑتی ہے
کسی کو اپنی آنکھوں سے کوئی سپنا نہیں دیتا
اٹھانا خود ہی پڑھتا ہے تھکا ٹوٹا بدن
کہ جب تک سانس چلتی ہے کوئی کندھا نہیں دیتا
انتخاب:۔ توقیر احمد ، مکھڈی احمد ٹیلرز تلہ گنگ
پنجابی
بندے آج کل سپ توں ڈھیر زہریلے ان
ڈنگ لیندین سجنڑ بنڑ ا کے
سجنڑاں توں سنجڑ مرا ڈیندن ایویں
جھٹ وچ پیار ڈکھا دے
تینوں اجاں تائیں سمجھ کاشی نئیں آئی
ہر موڑ تے دھوکہ کھا کے
اساں آپ وی لینڈ توں لئگئے ہاں
تینوں نت سجھا سجھا کے
انتخاب:۔ ملک عدیل اکوال
اشعار
کر لیا اس نے نئے آشیانے پہ بسیرا ساجد
چلا گیا عمر بھر میری آنکھوں کو انتظار دے کر
خدا جانے اتنا ویران کیوں ہے آج یہ جہان ساجد
کبھی اتنا اداس نہ تھے زندگی میں اس طرح
میرے دامن میں تو دکھ کے سوا کچھ بھی نہیںساجد
کیا دیں گے انہیں جو خوشیوں کے طلب گار ہیں بس
اتنا اداس نہ تھا کبھی زندگی میں میں ساجد
ایک شخص کے بچھڑ جانے پہ کل جتنا رویا
کلام:۔ ساجد سپین
میری پسند
وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی میرے لب پہ کوئی گلہ نہ تھا
اسے میری چپ نے رلا دیا جسے گفتگو میں کمال تھا
انتخاب:۔ سائرہ بتول ، تلہ گنگ
تیرے وجود سے وابستگی ٹوٹی تھی نہ ٹوٹی ہے نہ ٹوٹے گی
میں اپنی ذات سے منکرتو ہو سکتا ہوں تیری محبت سے نہیں
انتخاب:۔ این بابر ، مورت
زندگی تو کسی اور کی بخشی ہوئی امانت ہے
ہم تو فقط سانسوں کی رسم ادا کرتے ہیں
انتخاب:۔ محمد اختر ڈھوک تریڑ
مجھے تم یاد آتے ہو
جب دور افق پر لالی ہوجب شام اداسی والی ہو
جب ضبط کا بندھن ٹوٹا ہوجب آس کا دامن چھوٹا ہو
جب درشن پیاس بجھاتا ہوجب اپنا درد ستاتا ہو
جب کان اترتی باتوں کو جب نیند آئے راتوں کو
جب آنکھوں میں جگراتے ہوںجب اپنے درد ستاتے ہوں
تب مجھے تم یاد آتے ہو مجھے تم یاد آتے ہو
انتخاب:عمر فاروق پچنند
میرے حالات نے کردیا تھا مجھے خاموش فراز
ذرہ ہم چپ کیا ہوئے دوستوں نے یاد کرنا چھوڑ دیا
پوچھی ہے دوستوں نے پھر درد ِ دل کی وجہ یاسر
ایسا نہ ہو کہیں تیرا نام لبِ بام آجائے
انتخاب:۔ یاسر جنرل سٹور ٹمن
آزاد نظم
تمہیں بھی تو خبر ہوگی
کہ دریا پاس بہتے ہوں تو پانی اچھا لگتا ہے
کناروں سے جڑی مٹی سے پوچھوروگ چاہتا کا
کہ اس پانی کی چاہت میں
کناروں سے اتر کر
اجنبی دیسوں میں جانا کتنا مشکل لگتا ہے
کنارہ پھر نہیں ملتا تمہیں بس اتنا لکھنا ہے
یہاں جو بھی بچھڑ جائے
دوبارہ پھر نہیں ملتا
انتخاب:۔ راجہ افتخار احمد ، سگھر
غزل
میرے قرب سے میرے وجود تک
اسے اختلاف تو صدا کا تھا
میرے غم سے میرے جنون تک
یہ فاصلہ بس انا کا تھا
میری زندگی سے میری سانس تک
وہ فاصلہ بس دعا کا تھا
میری بات سے تیرے ذکر تک
کوئی سلسلہ جو ہوا کا تھا
میری حقیقت سے میرے خواب تک
وہ بے خبر انتہا کا تھا
انتخاب:۔الطاف حسین جہلم
قطعہ
ایسی بھی محبت کی سزا دیتی ہے دنیا
مر جائے تو جینے کی دعا دیتی ہے دنیا
ہم کون سے مومن تھے جو الزام نہ سہتے
پتھر کو بھگوان بنا دیتی ہے دنیا
انتخاب:۔ طارق محمود اے ٹی
غزل
روح پہ اپنی لہو کا لباس رکھتا ہوں
میں خاص پھول ہوں رنگت بھی خاص رکھتا ہوں
کسی خوشی کی بھلا اب مجھے خوشی کیوں نہ ہو
تمہارے غم جسے جو خود کو اداس رکھتا ہوں
میں اپنے درد کہاں بانٹتا پھروں وصی
کہ میں اپنی چیز فقت اپنے پاس رکھتا ہوں
انتخاب:۔زاہد محمود آف مورت
غزل
گردش کے بعد ذات کا محور ملا مجھے
جس سے نکل گیا تھا وہی گھر ملا مجھے
ذرے کے ایک جز سے کھلا راز ِ کائنات
قطرے کی وسعتوں میں سمندر ملا مجھے
کتنی عجیب بات ہے جو چاہتا تھا میں
قسمت سے اس طرح کا مقدر ملا مجھے
میں تھا کہ کفایت کے پردوں میں قید تھا
وہ تھا کہ ہر لحاظ سے کھل کر ملا مجھے
دنیا کی وسعتوں میں اسے ڈھونتا رہا
لیکن خدا میری ذات کے اندر ملا مجھے
انتخاب:، ایس کے ، ڈھلی
غزل
سکوتِ شام میںگونجی صدا اس کی
کہ ہے مزید اداسی دوا اداسی کی
امور دل میں کسی تیسرے کا دخل نہیں
یہاں فقت اس کی چلتی ہے یا اداسی کی
بہت شریر تھا میں اور ہنستا پھرتا تھا
پھر ایک فقیر نے دے دی دعا اداسی کی
چراغ ِ دل کو ذرا احتیاط سے رکھنا
کہ آج رات چلے گی ہوا اداسی کی
بہت دنوں سے ملاقات ہی نہیں ہوئی ہے محسن
کہیں سے خیر خبر لے کے آ اداسی کی
انتخاب:۔ ملک وقار احمد ، نکہ کہوٹ
غزل
کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں،تم کہہ دینا کوئی خاص نہیں
اک دوست ہے کچا پکا سا،اک جھوٹ ہے آدھا سچا سا
اک خواب ادھورا پورا سا،اک پھول ہے روکھا سوکھا سا
اک سپنا ہے بِن سوچا سا،اک اپنا ہے اَن دیکھا سا
اک رشتہ ہے انجانا سا،کچھ پاگل سا دیوانہ سا
اک بہانہ اچھا سا،جیون کا ایسا ساتھی ہے
جو دور ہوتو کچھ پاس نہیں،کوئی پوچھے تم سے کون ہوں میں
تم کہہ دینا کوئی خاص نہیں
انتخاب:ابنِ حوا کلاس 10thپچنند
غزل
محبت کے سفر میں کوئی بھی رستہ نہیں دیتا
زمین واقف نہیں بنتی فلک سایہ نہیں دیتا
خوشی اور دکھ کے موسم سب کے اپنے اپنے ہوتے ہیں
کسی کو اپنے حصے کا کوئی لمحہ نہیں دیتا
اداسی جس کے دل میں ہو اسی کی نیند اڑتی ہے
کسی کو اپنی آنکھوں سے کوئی سپنے نہیں دیتا
اٹھانا خود ہی پڑتا ہے تھکا ٹوٹا بدن اپنا
کہ جب تک سانس چلتی ہے کوئی کاندھا نہیں دیتا
انتخاب:محمد اشفاق عاجز قوم ممدال صادق آباد
قطعہ
کیسے ممکن تھا کے کسی اور کو اپنا کرتے
آئینہ لوگ تھے کیا لوگوں سے دھوکہ کرتے
ہنستے پھرتے ہیں سر بزم میں ان کی خاطر
ورنہ حالات تو ایسے ہیں کہ رویا کرتے
انتخاب:۔ اکرم نور چکڑالوی تلہ گنگ
قطعہ
ہوئی شام تو آنکھوں میں بس گئی تو
کہاں گئی ہے میرے شہر کی مسافر تو
میں جانتا ہوں کے دنیا تجھے بدل دے گی
میں جانتا ہوں کے ایسی نہیں بظاہر تو
انتخاب:۔ طاہر کراکری سٹور تلہ گنگ (ایس ٹی)
قطعہ
جب زندگی سمجھ آئی تو زندگی سے دور تھے ہم
مرنا چاہا جینے کو مجبور تھے ہم
ہر سزا ہم نے قبول کی سرجھکا کر
بس قصور اتنا تھا کہ بے قصورتھے ہم
انتخاب:۔ فیصل قیوم ، سنگوالہ پولٹری
قطعہ
نہیں اس میں کوئی منطق ، ہے یقین کی بات ساری
کہ جہاں رکھا ہے پاﺅں ، وہاں راستہ تو ہوگا
کوئی درمیاں نہیں تھا ، کوئی درمیاں نہیں ہے
تو پھر ایسی قربتوں میں ، کہیں رابطہ تو ہوگا
انتخاب۔سحاب شجر ، کوٹ سارنگ
قطعہ
اک رات ہوئی برسات بہت میں رویا ساری رات بہت
ہر غم تھا زمانے کا لیکن میں تنہا تھا اس رات بہت
پھر آنکھ سے ساون برسا جب سحر ہوئی تو خیال آیا
وہ بادل کتنا تنہا تھا جو برسا ساری رات بہت
انتخاب:۔ عون تریڑ ، عثمان آباد تلہ گنگ
قطع
ہ
عجیب لگتی ہے شام کبھی کبھی
زندگی لگتی ہے بے جان کبھی کبھی
سمجھ سکو تو ہمیں بھی بتا نا
کیوں کرتی ہیں یادیں پریشان کبھی کبھی
انتخاب: رئیس ساجد فیضانِ مقصودیہ ہوٹل پچنند
قطع
ہ
محبت کی سزا بے مثال دی اس نے
اداس رہنے کی عادت سی ڈال دی اس نے
میں نے جب بھی اسے اپنا بنانا چاہا
باتوں باتوں میں یہ بات ٹال دی اس نے
انتخاب:۔ ایم اعوان ، سکا
غزل
میرے خوابوں کے گلشن میں ،خزائیں رقص کرتی ہیں
میرے ہونٹوں کی لرزش میں وفائیں رقص کرتی ہیں
مجھے وہ لاکھ تڑپائے مگر اس شخص کی خاطر
میرے دل کے اندھیروں میں دعائیں رقص کرتی ہیں
اسے کہنا کہ لوٹ آئے،سلگتی شام سے پہلے
کسی کی خشک آنکھوں میںصدائیں رقص کرتی ہیں
خدا جانے کیسی کشش ہے تیری حسیں یادوں میں
میں تیرا ذکر چھیڑوں تو ہوائیں رقص کرتی ہیں
انتخاب:امیر حمزہ پچنند
تلہ گنگ ٹائمز سالگرہ مبارک
تلہ گنگ ٹائمز تو ہے جند جان میری
تلہ گنگ ہے پہچان تیری
چکوال میں ہے کمان تیری
ہے دنیا میں خوشبو تیری
ہر شہر میں نمو تیری
ہر بندے کو آرزو تیری
تیرے چاہنے والے کم نہیں
جو چھوڑ جائیں وہ ہم نہیں
تیری خبر میں کوئی خم نہیں
تیرے ایڈیٹرز کی خیر ہو
کسی کو نہ ان سے بیر ہو
ہر قاری تجھ سے سیر ہو
ہم نے جب بھی تجھے یاد
جاناں! تم نے ہمیں آباد کیا
سارے جہاں کو تو نے شاد کیا
تیری سالگرہ کا 11سال ہے
لگتا ہے تو بہت خوشحال ہے
سبھی کا یہی خیال ہے
کلام:۔ سعید بخاری ماہر لسانیات
تلہ گنگئیے
تلہ گنگ کے بہادر اور غیور عوام کے نام جنہوں نے مختلف حادثات و واقعات میں اپنی بے پناہ خدمات پیش کیں
زندہ دل اور ہیں جی دار مرے شہر کے لوگ
باعمل صاحب کردار مرے شہر کے لوگ
ہر مصیبت میں وہ یکجان دکھائی دیں
عظم و ہمت کے ہیں شاہکار مرے شہر کے لوگ
دل میں لالچ نہ کوئی اور طلب رکھتے ہیں
بس محبت کے طلبگار مرے شہر کے لوگ
سکھ کی گھڑیاں ہوں کہ ہو دکھ کا کوئی بھی لمحہ
جان تک دینے کو تیار مرے شہر کے لوگ
نفرتیں ، کینہ کوئی بغض نہیں رکھتے یہ
ہر کسی سے ہیں کریں پیار مرے شہر کے لوگ
دل میں رکھتے ہیں ہمیشہ ہی جواں جذبے یہ
ملک و ملت کے ہیں معمار مرے شہر کے لوگ
میرے الفاظ میرے رب کی عطا ہیں مظہر
میری نظمیں میرے اشعار مرے شہر کے لوگ
کلام:۔ مظہر عباس ہمالیہ تلہ گنگ
پھر بگل بجنے لگے ہیں ، پھر سے دنگل سر پہ ہے
پھر سے اپنے شیخ صاحب ہیں پریشانی میں گم
پھر سے نکلیں گے یہاں بازی گرانِ شہر سب
پھر نہ کر لیں وہ تمہیں اس شعبدہ بازی میں گم
پھر تمہیں کرنا چناﺅ ہے مگر ”تک تول کے “
پھر نہ ہو جانا کہیں بھائی
پشیمانی میں گم
ووٹر سادہ ہے لیکن اب بدل گیا زمانہ
جن کو آزما چکا آج پھر ان کا ہے دیوانہ
ارے جو کام نہیں کرتے ساتھ ان کا چھوڑ دے
بیوقوفی ہے آزمائے ہوئے کو پھر آزمانا