جاوید ہاشمی جیسے سیاسی کارکن صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں لیکن ایسے کارکنوں کی سیاسی جماعتیں قدر کم ہی کیا کرتی ہیں اور مسلم لیگ میں تو یہ کلچر ہے ہی نہیں ۔توقع یہ تھی کہ میاں برادران جلاوطنی کے بعد کھوٹے اور کھرے کی پہچان کر پائیں گے لیکن وطن واپس آکر اُن میں زرابرابر بھی فرق نہیں آیا بلکہ موجودہ دور میں جاوید ہاشمی جیسے لوگوں کو کچھ زیادہ ہی نظرا نداز کیا گیا ہے ۔ گذشتہ روز ٹی وی پر اچانک میرے کانوں میں جب یہ آوازگونجی کہ جاوید ہاشمی کو برین ہیمرج ہو گیا ہے تو میں سکتے میں آگیا باوجود اسکے کہ نہ اُن سے کبھی زندگی میں ملا قات ہوئی ہے اور نا ہی جان پہچان صرف ان کی سیاسی جدوجہد اور قربانیوں کی داستانیں سنی اور پڑھی ہیں۔ بعدمیں تفصیلات سامنے آنے لگیں لیکن دل میں انجانے خوف نے سارا دن گھیرے رکھا کسی سے پوچھنے کی جرات نہیں ہورہی تھی میرے ساتھ ایسے ہی ہوا تھا جب غزہ میں آج نیوز کے جناب طلعت حسین کو یرغمال بنا لیاگیا تھا ۔میری جرات نہ تھی کہ کسی سے پوچھ سکوں کہ مبادا کوئی بری خبر ہی نہ ہو جناب جاوید ہاشمی سے روحانی رشتہ ضرور ہے وہ ایک بے باک اور نڈر لیڈر رہے ہیںشام کو اپنے بیٹے خرم سے ڈرتے ڈرتے پوچھا تو اُسنے بتایاکہ اب جاویدہاشمی ماشاءاللہ صحتمند ہیں اور یہ کہ انہیں لاہور شفٹ کر دیا گیا ہے۔ خیریہ ڈر اور خوف اس لئے آتا ہے کہ ہمارے ملک سے اچھی اور کریم لیڈر شپ ختم ہورہی ہے جب بی بی شہید کا واقع ہوا اس دن سے ایک انجانہ خوف لگا رہتا ہے کہ یا اللہ سب کی خیر ہو اللہ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔
جاوید ہاشمی جہاں بہادر اور جرات مند لیڈر ہیں وفا اُن میںکوٹ کوٹ کربھری ہوئی ہے موجودہ زمانے میں ان جیسے لوگوں کی تلا ش کرنی پڑتی ہے جزل مشرف کا دور کوئی اتنی دور کی بات نہیں میاںنواز شریف کو 2/3اکثریت حاصل تھی پورے ملک میں انکا حکم چلتاتھا لیکن ان کی اپنی غلطیوں کیوجہ سے جزل مشرف نے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کر کے انہیں جیل میں ڈال دیا جاوید ہاشمی بھی پابندِ صلاصل تھے بیگم کلثوم نواز کے ساتھ ہراول دستے کا کام کرتے رہے یقینا ہاشمی صاحب کی خواہش ہو گی کہ اب میاں نواز شریف دوسرا ذوالفقار علی بھٹو بنیں گے اور قید وبدن کی صہوبتیں جھیل کرکندن بن کر باہر آینگے لیکن جاوید ہاشمی کی یہ خام خیالی تھی اور میاں نوازشریف اپنے تمام قربانیان دینے والے ساتھیوں کو بے یار مددگار چھوڑ کر جزل مشرف سے معائدہ کر کے سعودی عرب سرورپیلس میں جا بیٹھے لیکن جاوید ہاشمی اور سینکڑوں دوسرے کارکن مشرف کی آمریت کا مقابلہ کرنے لگے جبکہ چوری کھانے والے مجنوں سیدھے مشرف کی گود میں جا بیٹھے اور بعض دوسرے "سیانے"اپنے گھروں میں "نظر بندی "کی زندگی گزارنے لگے انہوںنے اندرونِ خانہ مشرف سے گٹھ جوڑ کر لیا تھا ۔ صرف ایک سر پھر ا جاوید ہاشمی تھا جس نے آمریت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیاا ور اپنے اجداد کی سنت پر عمل کر تے ہوئے وقت کے یزید کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑا ہوگیا۔ جب مشرف نے محسوس کیا کہ یہ سید زادہ میرے بہکاوے میں آنے والا نہیں تو اُس نے ایک خط کو جواز بنا کر جاوید ہاشمی کو "باغی "بنا دیا ۔ جاوید ہاشمی کے پاﺅں میں اس وقت بھی لغزش نہیں آئی اور انہوں نے جیل کی سلاخوںکو اور موسم کی شدت کی پرواہ کئے بغیر اپنی "وفاداری " کی حدکر دی جیل میں بھی مشرف نے کئی بار پیغامات بھیجے کہ اب بھی وقت ہے ہمارے قافلے میںآملو یہاں عیش و عشرت اور مال ودولت ہے جبکہ دوسری جانب کال کوٹھڑی ۔ سید زادے نے جیل کی قید کو اپنے لئے پسند کیا جبکہ دنیا کی عیش و عشرت پر لات مار دی پھر وہ قت بھی آیا جب انہیں جیل سے رہائی ملی۔ پھر وقت آتا ہے جب بے نظیر بھٹو شہید وطن واپس آئیں جاوید ہاشمی بی بی شہید سے بھی ملے ۔میاں نوا زشریف کی وطن واپسی ہوئی جاوید ہاشمی جو اس وقت قائم مقام صدر تھے انہوں نے صدارت میاں شہباز شریف کے حوالے کی اور خود ملک بھر میں سیاسی جلوسوں سے خطاب کرنے میں مصرف ہوگئے تو قومی اسمبلی کے تین حلقوں سے انتخاب جیت کر اپنے لیڈر میاں نواز شریف کی جھولی میںڈال دی اور اپنے لئے ملتان کی سیٹ پسند کی ۔ یہ سید زادہ عالمِ حیرت میں تھا کہ مرکزی قیادت انہیں وہ مرتبہ اور مقام نہیں دے رہی جسکی وہ امید لئے بیٹھے ۔جب وزیراعلیٰ بننے کا وقت آیا تو میاں نوازشریف نے اپنے بھائی کو اس کا اہل سمجھا، قومی اسمبلی میں جب وزارتوں کاوقت آیا تو اس سید زادے نے جزل مشرف سے بدلہ یوں لیاکہ ا نہوں نے وزارت کا حلف ہی نہیں لیا کیونکہ اس آمر نے انہیں "باغی "بنایا تھا انہوں بغاوت کر کے دکھا دی جب قائدِ حزبِ اختلاف کی باری آئی تو جناب جاوید ہاشمی جیسے مقرر اور پرانے پارلیمنٹرین کو اس قابل نہیں سمجھا گیا اس بار بھی چوہدری نثار علی خان جیسے شخص کو اس مسند پر بٹھا دیاگیا جنہوں نے جزل مشرف کے آٹھ سالہ دور میں اس آمر کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا ۔
مسلم لیگ کی مرکزی قیادت نے جاوید ہاشمی کو اس قابل بھی نہیں جانا کہ کسی معاملہ پرانہیں اعتما د میں لیا جائے اس سے مشورہ ہی کر لیا جائے ایسے حالات میں وہ مسلم لیگ کے گن گاتے پھرتے تھے کبھی کبھی جب قریبی دوستوں کے طعن و تفنگ سے تنگ آتے تو ایک آدھے بیان داغ دیتے لیکن قیادت جانتی ہے کہ یہ توگھر کی مچھلی ہے جب دل چاہا قابو کر لی لیکن آخر کب تک انسان آخر انسان ہے جاوید ہاشمی 8سال تک جزل مشرف کے ظلم و ستم سہتے رہے جب اپنی حکوت آئی تو بھی امتحان شروع کر دئیے گئے ایسے میں انسان اپنا سر پھوڑ نے پر مجبور ہوجا تا ہے ۔ ایسے حالات میں صوفی شاعر میاں محمد بخشؒ نے اپنے الفاظ میں یوں بیا ن کیا ہے
پاسے پاسے چلی جوانی ، پاس نہ سدیا یاراں
ساتھی کون محمد بخشا درد ونڈے غمخواراں؟
مان نہ کرئیو روپ گھنے دا، وارث کون حسن دا؟
سدا نہ رہن شاخاں ہریاں ، سدا نہ پھُل چمن دا
سدا نہ باغیں بلبل بولے ،سدا نہ باغ بہاراں
سدا نہ حسن جوانی قائم ، سدا نہ صحبت یاراں
آگے چل کر خود ہی میاں محمد بخش کہتے ہیں
باغ بہاراں تے گلزاراںبِن یاراںکس کاری
یا ر ملے دکھ جان ھزاراں،شکر پڑھاں لکھ واری
غم بہتے ، غمخوار نہ کوئی گن گن دساںکنوں؟
جس دے پچھے کرم گنوایا ، مُکھ نہ دسے مینوں
ان اشعار میں بہت سے باتیں جناب جاید ہاشمی سے تعلق رکھتی ہیں لیکن چونکہ وہ صاحب فراش ہیں پورا پاکستان ا ن کے لئے دعا گو ہے کہ وہ بہت جلد صحت یاب ہو کر دوبارہ اپنوں کے درمیان ہوں ۔ میری تما تر نیک خواہشات اُن کے ساتھ ہیں اللہ انہیں صحت کا ملہ عطا فرمائے ۔ جاوید ہاشمی جیسے لوگ پاکستان کا اثاثہ ہیں ہمیں انکی بہت ضرورت ہے جاوید ہاشمی بننے کے لئے جگر کا خون دینا پڑتا ہے اس لئے کہا گیا کہ "جاوید ہاشمی ہوا کرے کوئی "۔