پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی سردار محمد فیض ٹمن کا اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ ضمنی انتخابات پچیس اگست کو ہو رہے ہیں مستعفی رکن قومی اسمبلی سردار فیض ٹمن، سردار ذوالفقار علی خان دلہ ملک اسد علی ڈھیر مونڈ ملک محمد کبیر اےڈوکیٹ ، پیر نثار قاسم کرنل سلطان سرخرو ،ملک طارق ٹہی ،خوشحال خان ایڈوکیٹ ،راجہ ثنا ءالحق،سردارممتازٹمن، ملک سلیم اقبال،ملک اسد علی ڈھیر مونڈ،عبدالرازق شاد،ملک الطاف بڈھیال،شہریار ملک آف کوٹ قاضی،ملک آفتاب پچنند،غلام شاہ ملتان خورد مسلم لیگ ن کے امیدوار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں ق لیگ بھی جلد امیدوار کا اعلان کر دے گی ن لیگ کا ٹکٹ کس کو ملے گا ؟جلد پتہ چل جائے گا سردار منصور حیات ٹمن،کمانڈر ایوب ،نوجوان صحافی یاسر ملک نے آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا حلقہ این اے 61کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کےلئے رسہ کشی جاری ہے۔2002ءکے قومی الیکشن کے موقع پر جنرل مشرف کے زیر عتاب مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کےلئے کوئی امیدوار سامنے آنے کو تیار نہیں تھا بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے کے مصداق اب ٹکٹ کے حصول کےلئے پیپلز پارٹی کے رکن سمیت وہ امیدوار بھی سامنے آرہے ہیں جنہوں نے کئی مواقع پر مسلم لیگ ن سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کیا اب ن لیگ کے ٹکٹ کےلئے سر دھڑ کی بازی لگا ر ہے ہیں ملک سلیم اقبال کو لوٹا ہونے کی وجہ سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے، ممتاز ٹمن گو غیر متنازعہ اور موزوں امیدوار ہیں مگر (ن) لیگ کی پالیسی کے مطابق انہیں ٹکٹ نہیں مل سکتا، سردار عباس کے ساتھ اتحاد توڑنے کےلئے انہیں ٹکٹ مل سکتا ہے اور وہ سیٹ جیت بھی سکتے ہیں۔ سردار ذوالفقار دلہہ کو ٹکٹ دینا سیٹ ضائع کرنے کے مترادف، ملک اسد ڈھیر مونڈ کو حمزہ شہباز کی حمایت حاصل، مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت کرنل سلطان، فیض ٹمن، خوشحال ایڈووکیٹ اور ملک کبیر کی حامی ممتاز ٹمن نے ایاز امیر سے ملاقات کے بعد ن لیگ کا ٹکٹ لینے کی درخواست دی اور سردار عباس نے سردار ممتازٹمن کی حمایت کا فیصلہ کر دیا۔بھولی عوام کو اپنے سیاسی ذاتی مفا د کے لئے استعمال کرنے والے سیاستدان اب بھیس بدل کر عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے ایک ہو گئے ہیںاس سے قبل جنرل مجید ملک اٹھارہ سال لوگوں کو سرداروں کے خلاف لڑاتے رہے ہیں جب اپنا ذاتی مفاد نظر آیا تو خود سرداروں کے ساتھ بیٹھ گئے۔اس کے بعد منصور حیات نے بھی عوام کے ساتھ وہی حشر کیا ،اٹھارہ سال تک عوام کو سرداروں کے ساتھ لڑانے کے بعد جب ذاتی مفاد کا وقت آیا تو منصور حیات ٹمن بھی سرداران چکوال کی جھولی میں بیٹھ گئے ضلع کی عوام کو اب ہوش کرنا ہوگا اور ان نام نہاد سیاستدانوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی۔ دوسری جانب حلقہ این اے 61کے علمائے کرام ،سیاسی و سماجی اور عوامی حلقوں نے مشترکہ طور پر چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ مذکورہ حلقہ میں ضمنی الیکشن کا انعقاد25اگست کے بجائے عیدالفطر کے فوراً بعد کیا جائے۔ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ماہ رمضان کے باعث نہ صرف ووٹروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ الیکشن کی ڈیوٹی دینے والے خواتین و حضرات کو بھی رمضان کی عبادات نمازیں اور تراویح ادا کرنے کے لئے وقت نہیں ملے گا۔عوام رمضان کو یقیناضمنی الیکشن پر ترجیح دینگے جس کے باعثاس الیکشن میں ٹرن آوٹ بہت زیادہ کم ہونے کا اندشہ ہے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ الیکشن کمشن آف پاکستان مذکورہ حلقہ میں ضمنی الیکشن 25اگست کے بجائے عیدالفطر کے فوراً بعد کرائے۔تاکہ عوام کو اپنی عبادات پر سکون طور پر کرنے کا وقت مل سکے۔
کیسی رہے گی سیاسی صورتحال؟کس کو ملے گا ٹکٹ؟کون جیتے گا؟کیا مفادات کی سیاست کرنے والوں کو عوام مسترد نہیں کر سکتے؟کیا ہر الیکشن میں لوٹوں کی بھر مار بنتی رہے گی؟سیاسی صورتحال ،الیکشن کے حوالے سے آپ اپنی رائے اپنے نام اور علاقے کے نام کے ساتھ 03215473472 پر ایس ایم ایس کریں یا
یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
پر ای میل کریں آپ کی رائے کو یہاں شائع کیا جائے گا اب کھل کے بولو تلہ گنگ کے سب سے بڑے آن لائن اخبار تلہ گنگ اپ ڈیٹس ڈاٹ کام پر  سردار محمد فیض ٹمن ہمارے قومی ہیرو ہیں ان کو زیرو سمجھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں مسلم لیگ ن کی قیادت کارکنوں اور ورکرز کی خواہشات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حلقہ NA61کے لیے سردار محمد فیض ٹمن کو دوبارہ پارٹی ٹکٹ دے۔مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے لیے سردار محمد فیض ٹمن سب سے زیادہ موزوں ہیں: قاضی ضیاءالرحمٰان (پچنند)
ملک سلیم اقبال کو مسلم لیگ(ن) کا ٹکٹ حاصل کرنے کا کوئی حق نہیں اور نہ ہی سردار ذوالفقار دلہہ یا کوئی اور حقدار ہے یہ حق صرف تحصیل تلہ گنگ کے شہریوں کا ہے مسلم لیگ ن کسی ایسے شخص کی حمایت نہیں کرے گی جو مسلم لیگ ن کالوٹا ہو یا پھر حال ہی میںمسلم لیگ ن میں شامل ہوا ہویہ حق صرف قربانیاں دینے والے کارکنوں کا ہے:سید ضیاءالحسن زیدی ایڈووکیٹ صدر پاکستان مسلم لیگ(ن) ضلع چکوال
ذاتی مفادات کی سیاست کرنے والوں کو کوئی پارٹی ٹکٹ نہ دے اور نہ ہی لوٹوں کو،عوامی مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھنے والی شخصیت ہی ووٹ کی حقدار ہے نہ کہ سرداران ٹمن و چکوال اور سلیم اقبال جیسے مفاد پرست عناصر:محمد ثقلین(خوشحال گڑھ)
ہم مسلم لیگ(ن) کے سپاہی ہیں ایاز امیر یا کسی اورپارٹی لیڈر سے ہمارے کسی قسم کے کوئی اختلافات نہیں ضلع چکوال میں پارٹی کو متحد و مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں اگر پارٹی قیادت نے کارکنان کی خواہشات کو سامنے رکھ کر کسی امیدوار کو ٹکٹ دیا تو این اے اکسٹھ سے مسلم لیگ(ن) کی جیت یقینی ہے:ملک خالد ٹہی ضلعی جنرل سیکرٹری پاکستان مسلم لیگ(ن)
خوشحال گڑھ جیسے پسماندہ علاقے میں کسی نے بھی ترقیاتی کام نہیں کروائے آج بھی خوشحال گڑھ کے عوام بجلی،گیس،پختہ سڑک و دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں انتخابات کے دنوں میں تو ہر امیدوار وعدے کرتا ہے مگر اقتدار ملنے کے بعد سب وعدے بھول جاتے ہیں آنے والے ضمنی انتخابات سے قبل جو بھی خوشحال گڑھ میں ترقیاتی کام کروائے گا اس کو ووٹ دیئے جائیں گے خواہ اس کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو خوشحال گڑھ تلہ گنگ بلکہ ضلع چکوال کا سب سے پسماندہ علاقہ ہے اگر کسی بھی امیدوار نے ترقیاتی کام نہ کروائے تو ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے اب وعدوں اور یقین دہانیوں سے کام نہیں چلے گا پہلے کام پھر ووٹ :ملک شوکت علی ،محمد اصغر ڈھوک کھرمار،عبدالرشید،سید مرید حسین شاہ،محمد ایوب ڈھوک شمار،محمد رفیق ولد نواب خان (مرحوم)،گل باز(خوشحال گڑھ) سردار فیض ٹمن ہو منصور ٹمن یا ممتاز ٹمن ہر کوئی اپنی مفادات کی سیاست کر رہا ہے ان میں سے کوئی بھی ہو عام آدمی کی ضروریات کا کسی کو احساس نہیں ٹمن کے یہ سردار کب سے قومی اسمبلی کی سیٹ پر فائز رہے ایک ٹمن کی گللیوں کو پکا نہیں کروا سکے تو باقی عوام کی خدمت کیا خاک کریں گے ان انتخابات میں ہر صورت ہم سرداران ٹمن کو سپپورٹ نہیں کریں گے ملک ظہور انور صاحب نے بھی انتخابات میں کامیابی کے بعد سرداران ٹمن کا نقشے قدم اپنایا اور ایک مرتبہ پھر عوام کو بیوقوف بنائیں گے لیکن اب اہلیان تلاگنگ کسی کے بہکاوے می نہیں آئیں گے ہم ہر صورت ملک سلیم اقبال یا ملک شیریار اعوان جو بھی حصہ لے گا اسے تہے دل سے خوش آمدید کہیں گے منجانب: ملک محمّد عقیل اعوان ملک زبیر اعوان ملک اسماعیل اعوان ملک اسد اعوان آف کوٹ گلہ مختصر وقت میں ریکارڈ ترقیاتی کام کروانے کا سہرا سردار فیض ٹمن کو جاتا ہے جنہو ں نے مرکز میں اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی علاقہ کے عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے مفاد پرست سیاست دانوں، وڈیروں اور سرداروں کی منافقت کا پردہ چاک کیا اور صرف عوامی سیاست اور خدمت کو اپنی سیاسی زندگی کا محور بنایا۔ میری میاں نواز شریف اور مسلم لیگ کی قیادت سے پرزور اپیل ہے کہ NA-61 کے ٹکٹ کا فیصلہ کرتے ہوئے سردافیض ٹمن کے اہلِ علاقہ سے قریبی تعلق اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ان کی انتھک کوششوں اوتحصیل تلہ گنگ میں دوبارہ مسلم لیگ کو زندہ کرنے اور اصولی سیاست کرنے کو ضرور مدِ نظر رکھا جائے ۔ اُن کی شخصیت روائیتی سیاستدانوں سے ہٹ کر ہے جو صرف اور صرف اپنے ذاتی مفاد کو مدِ نظر رکھتے ہیں۔ اگر جلد بازی میں استعفیٰ دینے میں اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس کو درگذر کرتے ہوئے اُن کو اس حلقہ سے دوبارہ ٹکٹ دیا جائے تاکہ اس بات کو ثابت کیا جاسکے کہ تحصیل تلہ گنگ صرف اور صرف مسلم لیگ (نواز) کا گڑھ ہے۔ ملک گلزار اختر کارکن پاکستان مسلم لیگ (نواز)ڈھوک کیالہ، داخلی تھوہا محرم خان تحصیل تلہ گنگ این اے اکسٹھ کا الیکشن انشا ءاللہ کمانڈر(ر) ملک ایوب خان جیتیں گے کیوں کہ تلہ گنگ کو ایک پڑھے لکھے اصلی ڈگری اور مرد مومن کی ضرورت ہے ان ٹمنوں،سرداروں،چوہدریوں نے پہلے بھی اہل چکوال سے دھوکہ بازی کی ہے اور انکی آواز اقتدار اعلیٰ تک نہیں پہنچائی اب یہ کام ایوب ملک اور میڈیا ہی کر سکتے ہیں میڈیا کو چاہئے کہ منصفانہ کوریج دیںسب امیدواروں کو (عبداللہ:اسلام آباد) جناب ممتاز حیدر صاحب، میرا تعلق بھی تحصیل تلہ گنگ سے ھے ۔ میں نے آپ کی ویب سایٹ دیکھی کافی خوشی ہوئی ۔حلقہ این اے61 کے ضمنی انتخابات کے متعلق آپ نے جورائے مانگی ہے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے جب کے سردار فیض ٹمن نے استعفی دیا ہے۔ جو بعد میں پتا چلا کہ اصل وجہ سند کا جعلی ہونا تھا اور ہم اپنے علاقے کے تمام جاگیرداروں (وڈیروں) سے بھی با خو بی واقف ہیں کی انہوں نے سوائے اپنے مفاد کے علاقے کیلے کچھ نہیں کیا ۔ اب وقت ہے کہ نئے لوگوں کو آزمایا جائے چھ تبدیلی لائی جائے۔ اور اس وقت میرے خیال میں موجودہ امیدواروں میں سے کوئی بھی ملک خوشحال خان ایڈووکیٹ جو کہ ایک اعلی تعلیم یافتہ،نو جوان اور پاکستان مسلم لیگ (نواز)کا سچا کارکن ہے۔ چاھے2008 کے انتخابات میں پارٹی کے امیدوار کی بھر پور سپورٹ ھو یا پارٹی کے رکن قومی اسمبلی کے استعفی کے بعد پیدا ہوئی صورتحال جبکہ ےہ پروپگنڈا عام ہو گیا کے پاکستان مسلم لیگ (نواز) کا وجود این اے 61 سے ختم ہو گیا تو اپنے ذاتی اخراجات سے ورکر کنونشن کا انعقاد کرا کے ایک دفہ پھر پارٹی کی ےکجہتی کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ این اے 61 کے اندر پارٹی قیادت کے بڑے بڑے بورڈ، بینرز اور دوسرا تشہیری مواد چھپوا کر عوام میں نیا جوش پیدا کیا۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پارٹی کے مخلص کارکن ہیں اور کڑے وقت میں پارٹی کا ساتھ دیا ہے اور دیں گے اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ان سے بہتر کوئی امیدوار پارٹی ٹکٹ کیلے اہل نھیں ہو سکتا۔ تحصیل تلاگنگ کا شہری ہونے کے نا طے اس علاقے کے لوگوں کے مستقبل کیلے یہ میری زاتی راے ہے جو کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اور اسے شایع کرنے کی امید کرتاہوں آپ کیلے دعا گو، عدنان خلیل ( شہری تحصیل تلہ گنگ خیرخواہ مسلم لیگ نواز )
|