|
چکوال میں نعلین مبارک کے ظہور کے واقعے کی حقیقت قارئین تلہ گنگ اپ ڈیٹس ڈاٹ کام کی اس خصوصی رپورٹ پر اپنے خیالات کا اظہار 03215473472پر ایس ایم ایس یا
یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
پر ای میل کر کے کرسکتے ہیں،ہمیں آپ کی آراءکا انتظار رہے گا برصغیر کے باشندے یہاں کے مخصوص رسم و رواج ، روایات اور طرز معاشرت کے باعث کافی حد تک جذباتی پائے جاتے ہیں۔ پورے خطے میں شرح خواندگی کی کمی کے باعث ہی مخصوص مقاصد رکھنے والے بعض لوگ یہاں کے باسیوں کو من گھڑت روایات کے اسیر بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ہندو، سکھ اور بدھ مت مذاہب میں توہمات اور مافوق الفطرت کہانیوں کی کثرت ہے۔ اسلام نے اس خطے میں آکر ان روایات کا خاتمے کی کوشش کی تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض عناصر نے اسلام۔ پیغبر اسلام اور مختلف اسلامی عقائد کے ساتھ لوگوں کی عقیدت کو دیکھتے ہویے ایسی روایات اور رسومات کو پیش کرنے کی کوشش کی کہ جن کا مقصد صرف اور صرف ذاتی مفاد کا حصول اور لوگوں کو گمراہی کے راستے پر ڈالنا تھا۔ شیخ سرہندی ، شاہ ولی اللہ دہلوی اور دیگر مشا ئخ نے اپنے اپنے دور میں ایسی کوششوں کو ناکام بنایا اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ قرآن و حدیث کے علوم حاصل کرنے کی تلقین کی تاکہ کوئی بھی لوگوں کی اسلام اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کو استعمال کرکے اپنے مزموم مقاصد حاصل نہ کر سکے۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے جہاں مغربی تہذیب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا وہیں انہوں نے ایسی روایات کو بھی ختم کرنے کی بات کی کہ جن کا مقصد چند عناصر کے مالی و ذاتی فائدے ہوں۔ علمایے کرام اور دینی علم رکھنے والوں کی یہ کوشش جاری ہے تاہم اب بھی ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں کہ جن کا مقصد لوگوں کے مذہبی جذبات کو ابھار کر پیسے بٹورنا یا شہرت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ملک بھر میں آجکل چکوال کے گاوں دھرابی میں بارہ ربیع الاول کے دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا خوب چرچا کیا جا رہا ہے۔ گاوں کے ایک درزی تنویر کا دعوی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر میں تشریف لائے تھے جبکہ ان کے چھ فٹ کے قریب لمبائی میں نعلین مبارک کے نشانات ابھی تک موجود ہیں۔ اس واقعے سے متعلق مختلف کہانیاں بھی گردش کر رہی ہیں۔ کسی کا کہنا ہے کہ یہ غریب شخص تھا۔اس نے گھر میں محفل میلاد رکھی تو کوئی بھی نہ آیا۔ دوسری کہانی یہ ہے کہ اس شخص کی بیٹی کا اصرار تھا کہ محفل میلاد کرائی جائے لیکن اس نے غربت کے باعث انکار کر دیا۔ تیسری کہانی یہ ہے کہ اس شخص کے گھر کے اردگرد دوسرے مسالک کے لوگ رہتے تھے جو کہ اس کو مذہبی سرگرمیوں سے روکتے تھے جبکہ انہوں نے محفل میلاد کی بھی مخالفت بھی کی جس پر یہ واقعہ پیش آ گیا۔ تنویر ان سب کہانیوں کو قیاس آرائیاں قرار دیتا ہے۔ چوتھی کہانی یہ شخص خود سناتا ہے کہ وہ گھر سے باہر تھا اور اچانک گھر داخل ہوا تو نور ہی نور تھا۔ نعلین مبارک کا نشان تھا جبکہ روشنی اس قدر تھی کہ پورا علاقہ تین دن تک روشن رہا۔ اس جگہ کی تصاویر اور ویڈیوز تقسیم کی گئیں اور جلد ہی ملک بھر سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ دوسری جانب عینی شاہدین ، تنویر کے رشتہ داروں اور گاوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ چھ فٹ لمبائی کا نشان تو ضرور موجود ہے لیکن نور اور روشنی ہو جانے کا دعوی بلکل من گھڑت ہے۔ اس کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ تنویر شروع میں خود یہ تسلیم کر چکا ہے کہ یہ چھ فٹ لمبا نشان شادی کی تقریب میں دیگ بنانے کے لیے کھودے گئے گڑھے کی مٹی کے تھوڑا سا دب جانے سے بنا۔ لیکن جیسے ہی اس نے لوگوں کی دلچسپی دیکھی تو اس کو نعلین مبارک کی شبہیہ مشہور کر دیا۔ گاوں کے متعدد افراد کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے تیسرے دن اس جگہ پر ” یا اللہ “ اور ” یا محمد “ بھی لکھا گیا جو کہ بعد میں لوگوں کے اعتراض کرنے پر مٹا دیا گیا جبکہ اس بارے میں پوچھنے پر تنویر کا موقف تھا کہ یہ غائبانہ طور پر خود ہی مٹ گیا ہے۔ معروف ٹی وی چینل وقت نیوز نے اس واقعے سے متعلق ایک گھنٹے کا تحقیقاتی پروگرام نشر کیاہے۔ جس میں گاوں کے بہت سے دوسرے گھروں میں بھی ہو بہو ایسے ہی نشانات دیکھائے گئے کہ جو دیگ بنانے کے لیے بنائے گئے گڑھے کے باعث بنے تھے۔ علاقے کے تمام مسالک کے علماءکرام نے متفقہ طور پر اس واقعے کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے ایسا دعوی کرنیوالے شخص کو توہین رسالت کا مرتکب قرار دیا ہے کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ایک پاوں پر کھڑا ہونے سے منع کیا۔ علماءکرام کا موقف ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدوقامت سے متعلق تمام تفصیلات موجود ہیں اور اتنے بڑے نشان کو نعلین مبارک دینا توہین رسالت ہے۔ دوسری جانب حیران کن طور پر اس واقعے کا اب بھی خوب چرچا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہاں پکی تعمیرات ہو چکی ہے۔ سی ڈی اور تصاویر بیچنے کا کاروبار خوب چل نکلا ہے۔ بعض افراد اسے معجزہ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالی چونکہ ہر چیز پر قادر ہے اس لیے ایسا ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔ تو ایسے بھائیوں سے گزارش ہے کہ سوال اللہ تعالی کی قدرت یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کی عنایات کا نہیں بلکہ سوال تو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دیگ پکانے کا گڑھا کھود کر اسے محض روپے پیسے کے لالچ میں نعلین مبارک قرار دے تو ہمارا کا ردعمل ہونا چاہیے۔ اگر کل کسی غیر مسلم نے ہو بہو ایسا نشان بنا کر دعوی کر دیا تو پھر ہم مسلمانوں کیا موقف ہوگا۔ اس لیے تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ اسلام اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا باعث بننے والے اس قسم کے واقعات کی نہ صرف بھرپور مذمت کریں بلکہ دوسروں کو بھی ان عناصر کے دھوکے سے بچانے کی کوشش کریں۔ اس واقعے کی حقیقت سے متعلق تفصیل جاننے کے لیے وقت نیوز کی ویڈیو رپورٹ قارئین تلہ گنگ اپ ڈیٹس ڈاٹ کام پر دیکھ سکتے ہیں اور حقائق پر مبنی محمد ضیا ءالدین کی خصوصی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں
دھرابی میں پیش آنے والا نقشِ نعلین پاک کا معجزہ ابھی تک لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔جو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر زیر بحث ہے۔ خصوصی رپورٹ: محمدضیاءالدین قادری تحصیل تلہ گنگ سے بارہ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع گاﺅں دھرابی میں نقشِ نعلین پاک کے رونما ہونے کا واقع پیش آیا۔جو بارہ ربیع الاوّل کی شام مغرب سے تقریباََ 15سے 20منٹ کے درمیان یہ ظہور پذیر ہوا۔حقائق کیا ہیں اور اس میں علماءحضرات اور لوگوں کے کیا تاثرات ہیں؟ نقشِ نعلین پاک کا معجزہ تنویر عطاری کی زبانی: یہ جو کرشمہ ہمارے گھر ظہور پذیر ہوا ہے یہ مغرب سے پہلے تقریباََ 15سے 20منٹ کے درمیان واقع پذیر ہوا۔گھر کی خواتین نے اسے دیکھا۔ہم ہر سال کی طرح جلوس میلاد کے اندر شریک تھے تو مغرب کے بعد اطلاع ہوئی،ہمشیرہ نے فون کیا کہ بھائی جان گھر پر آیئے۔گھر میں نعلین پاک کا کرشمہ آویزاں ہے اس وقت میرے ساتھ دو دوست بھی تھے۔ہم فوری طوپر جب گھر پہنچے تو میں نے دوستوں کو باہر کھڑا کیا اور انہیں کہا کہ میں اندر جا کر صورت حال کا جائزہ لے لوں پھر آپ کو آگاہ کرتا ہوں۔جیسے ہی میں گھر میں داخل ہواتو سامنے نقشِ نعلین پاک کو آویزاں دیکھا۔میں نے ہمشیرہ اور گھر کی دوسری عورتوں کو کہا کہ آپ پردے میں چلی جائیں میرے کچھ دوست باہر کھڑے ہیں اور پھر باہر کھڑے دوستوں کو میں نے اندر بلا لیا۔انہوں نے بھی اس کی زیارت کی۔اس کے بعد ہمارے چند دوست اور ہیں جن میں قاری غلام مصطفیٰ اور حافظ الطاف کو میں نے فون کیا اور انہیں گھر آنے کو کہا اور بتایا کہ میرے گھر پر نعلین مبارک کا عکس آویزاں ہوا ہے۔تھوڑی دیر میں یہ تین چار افراد بھی میرے پاس آگئے اور انہوں نے بھی اس کرشمہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ نعلین مبارک بالکل روشن تھی اور اس سے نور کے چشمے جاری تھے۔اس کے بعد ہم صلوةوسلام پڑھنا شروع ہو گئے۔شام کے وقت بجلی بھی گئی ہوئی تھی اور آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اس کے باوجود بھی تمام گھر نور سے روشن تھا۔اس رات ہم نے کوئی لائیٹ نہیں جلائی۔جب ہم صلوة وسلام پڑھ رہے تھے تو آس پاس کے لوگوں کو گمان ہوا کہ میرے گھر شاید محفلِ میلاد ہو رہی ہے۔جیسے ہی لوگ میرے گھر میں داخل ہوئے تو سامنے نور برساتا ہوا نقشِ نعلین پاک دیکھا۔یہ انہیں اپنی طرف متوجہ کررہا تھا اور مغرب کے بعد 12ربیع الاوّل کو ہم صلوةوسلام پڑھ ہی رہے تھے ،آپ جانتے ہیں کہ موبائل نیٹ ورک آج کل اتنا تیز ہے کہ فوری طور پر یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی اور ہم کھڑے صلوةوسلام پڑھ رہے تھے کہ ایک لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر گھر میں داخل ہونا شروع ہوگیا اور گھر میں جمع ہوگیا۔فوری طور پر ہم نے درودوسلام کو مو¾خر کیا اور نعلین مبارک کے ارد گرد چارپائیاں لگائیں۔تقریباََ رات کو ایک سے ڈیڑھ بجے تک لوگ یہاں آتے رہے اور اس کی زیارت کرتے رہے۔نعلین مبارک پوری چمک دمک کے ساتھ رات کو آویزاں رہا اور اس سے خوشبو بھی آتی رہی۔کچھ لوگوں نے تو تصدیق کے لئے جھک کر اس کی خوشبو کو محسوس بھی کیا۔اس کے دوسرے دن ہم نے علماءکرام سے بھی رابطہ کیا جن میں مولانا شفیق بکھاری کلاں،علامہ رفیق رضوی تھوہا بہادر اور نوید حیدری بھی تشریف لائے اور ہمارے مدنی چینل اور مختلف میڈیا کے نمائندے اور صحافی حضرات نے اسکی کوریج کی۔اب تک نقشِ نعلین پاک ویسا تو نہیں جیسا کہ پہلا تھا لیکن اس نے اپنی ساخت وہاں چھوڑ دی ہے۔ نعلین مبارک کے واقعہ کے بارے میں مفتی الطاف الرّحمٰن کا فتویٰ۔ موضع دھرابی میں حضورپاک کے نعلین مبارک کے نقش کے ابھرنے کی کرامت پر تحصیل تلہ گنگ دیوبند کے مفتی الطاف الرّحمٰن فاضل مدینہ منورہ یونیورسٹی سعودی عرب(خادم جامعہ اصحاب الصفّہ تلہ گنگ) نے فتویٰ جاری کیا۔جس میں انہوں نے دھرابی جاکر واقع کی جگہ کا معائنہ کیا اور وہاں کے مکینوں اور گھر کے مالک تنویر حسین عطاری سے بات چیت کی اور ان سے سوال وجواب کئے۔جس میں انہوں نے یہ اخذ کیا کہ اس واقع کا کوئی مرد گواہ نہیں ہے اور گھر میں موجود عورتوں نے اس واقعہ کو بیان کیاجس کے بعد مفتی صاحب نے فتویٰ دیا کہ ایک لاکھ تئیں ہزار نوسوننانوے انبیاءرسل میں سے کسی کا بھی پاﺅں مبارک کی لمبائی اور چوڑائی اتنی نہیں تھی۔خصوصاََ نبی کریم ﷺ کے قدم ونعل مبارک احادیث وشمائل کی کتابوں میں اس طرح مرکوز ہے،لمبائی ایک بالست،دوانگل چوڑائی،ٹخنے مبارک قریب سات انگل وسط،قدم مبارک پانچ انگل پنجہ مبارک کے پاس سات انگل اور دونوں تسموں کے درمیان نعل مبارک دوانگل کا فاصلہ تھا لہٰذا سوال میں قدم مبارک کی جو کیفیت بیان کی گئی ہے ان حضرات جن میں مفتی الطاف الرحمٰن،مولانا گل محمد سیالوی،مولانا عبدالرحمٰان عثمانی اور مولانا عبیدالرحمٰن انور شامل ہیں کے حلفیہ بیان کے مطابق یہ نبی کریمﷺ کی ذات اقدس واطہر کے ساتھ مذاق واستبراءتوہین ہے۔اس جسارت پر مذکورہ شخص کو اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے معافی طلب کرنی چاہئیے اور جس طرح یہ اعلانیہ غلطی کی ہے اپنا نکاح بھی دوبارہ پڑھائے۔   چند حضرات نے وہیں دھرابی مجلس میں اپنا حلفیہ بیان قلم بند کرایا جن میں خان اکبر ولد غلام حسین،خضرحیات ولد اللہ بخش،سید صفدرحسین ولد سید شہابل شاہ،ملک الدار حسین ولد افضل حسین ،مشتاق سکندر ولد محمد اسحاق نے کہا کہ ہم سب اسی وقت وہاں موقع پر پہنچے تو نہ ہی اس وقت نور اور روشنی دیکھی نہ ہی دوسرے اور تیسرے دن دیکھی بلکہ اس جگہ پر محمد اجتر ولد حق نواز کی شادی کے موقع پر حلوہ پکانے کے لئے چولہہ بنایا گیا تھا۔سال بھر بارشیں نہ ہوئیں اور ابھی بارش ہونے کی وجہ سے یہاں سے زمین کچھ پست ہوگئی اور انہوں نے آپکا قدم مبارک تصور کرلیا اور تشہیر کردی گئی جو سراسر جھوٹ اورڈرامہ ہے۔ علامہ گل محمد سیالوی نے مفتی الطاف الرحمٰن کے فتوے کورد کردیا۔ ممتاز دینی شخصیت مولانا گل محمد سیالوی صاحب نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ علماءدیوبندکے دھرابی مسئلہ پر دیئے گئے فتویٰ میں ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ جب یہ فتویٰ میرے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے اسے رد کیااور کہا کہ دیگر مفتیانِ کرام اس واقعہ کو دیکھ کر قرآن وحدیث کی روشنی میں لکھ رہے ہیں صرف آپ اپنی رائے قائم نہ کریں تواس پر کہاگیا کہ یہ فتویٰ ابھی عارضی طورپر لکھا گیا ہے اور بعد میں اس پر صحیح مشاورت کریں گے،مولانا گل محمد سیالوی نے کہا کہ میرے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور نہ ہی اس فتویٰ کوعارضی سمجھا اور نہ اس کی تصحیح کی ۔انہوں نے کہا کہ انشاءاللہ اس واقعہ کے متعلق علماءاہلِ سنت (بریلوی) اپنا فتویٰ جاری کریں گے۔ نقشِ نعلین پاک کو منتقل کرنے کے لئے کھدائی: نقشِ نعلین پاک کو نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کے لئے کھدائی شروع کرائی گئی۔امن وامان کے پیش نظر اہلِ سنت والجماعت کے رہنماوں ،مفتی اکرام الحق اور علامہ گل محمد سیالوی کی قیادت میں علمائے کرام کے وفد نے گزشتہ دنوں ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی اس ملاقات میں محمد تنویر عطاری بھی موجود تھے اس موقع پر اتفاق رائے سے یہ طے پایا گیا کہ نقشِ نعلین مبارک کونامعلوم جگہ پر منتقل کردیا جائے جس کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری میں محمد تنویر عطاری کے گھر والے داخلی راستوں کو سیل کردیا گیا جبکہ نقشِ نعلین مبارک کونامعلوم جگہ پر منتقل کرنے کے لئے علمائے کرام اور پولیس کی نگرانی میں کھدائی شروع کرائی گئی۔تاہم بعد میں گاﺅں والوں کی مداخلت کے باعث نقشِ نعلین مبارک کی منتقلی کوعارضی طور پر روک دیا گیا۔گاﺅں والوں نے مذکورہ گھر کاکنٹرول سنبھال لیا اور تنویر عطاری کودوسرے گھر میں شفٹ کردیا گیا اور جگہ کودوبارہ بھر دیا گیا۔ نعلین مبارک کے بارے میں دھرابی کے رہائشی خان اکبر کا بیان: دھرابی محلے میں رہنے والا ایک شخص جس کا نام خان اکبر ہے ایک نجی ٹی وی چینل کوانٹرویو دیتے ہوئے بتاتا ہے کہ میں صبح سویرے تنویر عطاری کے گھر گیا۔تنویر عطاری نے مجھ سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے آپ نے کیوں مجھے صبح سویرے اٹھایاہے؟میں نے اس سے کہا کہ یہ وجہ آپ کے والد بتاتے ہیں جو تنویر کے ساتھ بیٹھے تھے۔میں جو بھی کہوں گا یہ قرآن پر ہاتھ رکھ کے بتاتا ہوں۔میری تنویر سے کوئی عداوت نہ تھی ان کے گھر میں کھاتا پیتا تھا۔میں نے تنویر کے والد سے کہا کہ آپ تنویر کو بتائیں آگے میں وضاحت کر دوں گا۔تنویر کے والد نے پوچھا کہ بیٹا یہ جو آپ کی ہمشیرہ کہہ رہی ہے یہاں اختر کی شادی پر ان لوگوں نے حلوہ پکایا اور اس جگہ چولہہ تھا۔بحرکیف جوکچھ ہوگیا ہے میں غریب آدمی ہوں بکریاں چرا کر گزارا کرتا ہوں اور آپ درزیوں کاکام کرتے ہیں آپ اس مشغلے کو رہنے دیں اور اپنے کام کی طرف توجہ دیں۔جس وقت تنویر کے ساتھ میں نے یہ بات چیت کی تو تنویر مجھ سے مشورہ لیتے ہیں کہ اب کیا کرنا چایئے؟گفتگو کرتے ہوئے ہمیں صبح کے آٹھ بج گئے۔باہر نعلین مبارک دیکھنے والوں کا بھی رش لگا ہوا تھا۔ہم آہستہ آہستہ بات کررہے تھے تاکہ ان کو ہمارا راز نہ کھلے۔تنویر عطاری نے مجھ سے پوچھا کہ اب یہ چولہہ تو ہے آگے اس کا کیا کیا جائے؟میں نے اسے کہا کہ اس کامناسب حل یہ ہے کہ ابھی باہر آدمی آئے ہوئے ہیںیہ سب ہمارے مسلک کی بے عزتی ہے آپ ایسا کریں کہ آج یہ نعلین مبارک لوگوں کو دکھائیں،رات بارہ بجے یہاں کوئی آدمی بھی نہیں ہوگا آپ اس پر دوبالٹی پانی کی ڈال دیں۔جب آپ اس پر دوبالٹی پانی کی ڈال دیں گے تو صبح جب آپ اٹھیں گے تو لوگوںکو بتائیں کہ جس طرح آپ نے نعلین مبارک کا جھوٹ بولا اسی طرح ایک اور جھوٹ بول دینا کہ رات کو ادھر پانی آگیا تھا تو یہ خودبخود ختم ہوگیا ہے۔اس نے مجھ سے کہا کہ انشاءاللہ ہم ایسا کریں گے۔میں نے ایک دوست کوفون کیا اور تنویر کے بارے میں پوچھا کہ کدھر ہے تو اس نے کہا کہ تنویر نعلین پاک کو محفوظ کرنے کے لئے ایک شیشہ لے آیا اور یہ اسے مضبوط بنانا چاہتا ہے میں نے اس کوفون کیا کہ آپ نے میرے ساتھ کیا بات کی؟یہ تو سراسر توہینِ رسالت ہے لیکن اس نے میری بات نہ مانی اور بعد میں اس نے میرا فون بھی نہ اٹھایا۔ اس بارے میں تنویر عطاری کیا کہتے ہیں؟ تنویر عطاری سے پوچھا گیا کہ آپ خان اکبر کوجانتے ہیں؟تو انہوں نے کہا کہ وہ ہمارے گاﺅں کا رہائشی ہے۔سوال کیا گیا کہ خان اکبر نے بتایا ہے کہ اس واقعہ کے دو دن بعد جب وہ آپ کے پاس آئے تو وہ بتاتا ہے کہ شام کو آپ کااس سے معاملہ طے پاگیا کہ آپ نے اس سے کہا کہ اس چیز کوکیسے ختم کیاجائے توانہوں نے بتایا کہ پانی کی دوبالٹیاں اس پر پھینک دیں تو یہ خودبخود ختم ہوجائے گا۔لیکن آپ نے ایسا نہ کیا اور اسے محفوظ کرنے کے لئے شیشہ خرید لائے۔تنویر عطاری نے اس پر جواب دیا کہ وہ فوراََ فجر کے وقت میرے پاس آیا مجھے آکے انہوں نے اٹھایاساتھ والے کمرے میں بٹھایا اور مجھ سے کہنے لگے”یار چار پانچ گاﺅں کے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہاں حلوہ بنانے کے لئے چولہہ بنایا گیا تھا۔اب آپ کااور جوہمارا فیملی کا معاملہ ہے وہ بہت قریبی ہے۔کل خدانخواستہ انہوں نے کوئی بات کی توبہت بے عزتی ہوگی۔مجھے یہ بھی پتا ہے کہ آپ اس بارے میں کوئی اقدام بھی نہیں کریں گے۔جیسے بارش ہوئی اور تھوٹا ساپانی پڑنے سے نعلین پاک کی ایک سائیڈ خراب ہوگئی ہے آپ مجھے صرف یہ اجازت دیں کہ میں رات کوآﺅں گا اوراس پر بالٹی پھینکوں گااور معاملہ یہیں ختم ہوجائے گا۔اس پر میں نے ان سے کہا کہ ابھی میں آپ کو اس بارے میں بتاﺅں گا کہ اس جگہ پوچولہہ تھا یا کوئی اور وجہ تھی۔میں نے ان سے نہیں کہا تھا کہ یہاں پانی پھینکنا ہے وہ صرف میرے پاس آئے اور مشورہ کیا جسے میں نے رد کردیا۔ اس معجزے کے بارے میںعلماءکرام اور عوام کی رائے : اس بارے میں عوام کی ملی جلی رائے ہے کچھ تواس کو مانتے ہیں لیکن کچھ اس سے اختلاف کرتے ہیںاور تادمِ تحریر یہ واقعہ زیربحث ہے۔چند لوگ کہتے ہیں نبی پاک کا پاﺅں مبارک اتنا نہیں ہوسکتا یہ سراسر جھوٹ ہے اس بارے میں چند علماءکرام کی یہ رائے ہے اور وہ مفتی الطاف الرحمٰان صاحب کے فتوے کورد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے یہ نہیں کہا کہ یہ نبی پاک کا پاﺅں مبارک ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ نقشِ نعلین پاک ہے۔کسی چیز کا نقش یا عکس چھوٹا بڑا ہوسکتا ہے۔اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہئیے۔ اس بارے میں زیادہ بحث میرے خیال کے مطابق اچھی نہیں ۔کیوں نہ ہم سب مل کر یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں۔جس طرح اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ جومیں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے ،سننے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
|